ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مراد آباد: گھروں میں باجماعت نماز کے خلاف داخل ایف آئی آر پولیس جانچ کے بعد خارج، ماحول خراب کرنے کی کوشش ناکام

مراد آباد: گھروں میں باجماعت نماز کے خلاف داخل ایف آئی آر پولیس جانچ کے بعد خارج، ماحول خراب کرنے کی کوشش ناکام

Tue, 30 Aug 2022 23:43:10    S.O. News Service

مراد آباد،30؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)مرادآباد کے تھانہ جھلیٹ کے گاؤں دولہا پور میں اس وقت ماحول زہر آلودہ ہو گیا جب راجکمار سینی نامی ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کہ ساتھ مل کر پولیس میں شکایت درج کی کہ ایک گھر میں باجماعت نماز ادا کی جا رہی ہے،اطلاع ملتے ہی پولیس فوری ایکشن میں آئی اور واحد اور انوّار سمیت دو درجن افراد پر مقدمہ دائر کردیا۔ جس کے بعد سیاسی  اور سماجی تنظیموں سے جُڑے ذمہ داران سامنے آگئے اور اپنے اپنے انداز میں بیان بازی کرنے لگے۔ حالانکہ جانچ کہ بعد پولیس نے یہ کہتے ہوئے ایف آئی آر کو ختم کر دیا کہ اس شکایت میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

نماز ادا کرنے والے افراد کا بھی یہی کہنا تھا کہ ذاتی رنجش کی وجہ سے یہ سب کیا گیا ہے در اصل اس گاؤں میں تقریباً بیس فیصد آبادی اقلیتوں کی ہے اور گاؤں میں ایک بھی مسجد نہیں ہے جہاں اقلیتی طبقہ اپنی عبادت کر سکے یہاں کے لوگ اپنے گھروں میں ہی عبادت کرنے پر مجبور ہیں، مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ آزاد ہندوستان کے آئین میں لکھا ہے کہ ہر ایک کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے اور زندگی گزارنے کا حق ہے  لیکن اقلیتوں کو عبادت گاہ تعمیر کرنے کی ہی اجازت نہیں دی جارہی ہے، واحد کا کہنا ہے گاؤں کے لوگ کئی بار عرضی دے چکے ہیں کہ اُنہیں عبادت گاہ تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے، مگر اُس عرضی پر سنوائی نہیں ہورہی ہے۔جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ اجتماعی عبادت سے محروم ہیں یہاں تک کہ رمضان المبارک میں تراویح کی نماز ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں، ایک دو بار کوشش کی گئی تولوگ مسلمانوں کے خلاف شکایت کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے روک دیا گیا، اسی علاقہ کے فتح پور بشنوئی گاؤں میں بھی ایک عبادت گاہ میں برسوں سے سرکاری تالہ پڑا ہے، یہاں کے لوگوں نے بھی بہت جدو جہد کی، مگر کامیابی نہیں ملی۔ گاؤں سے ہجرت کرنے کےاعلان سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، آخر کار اس گاؤں کے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مرادآباد کے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے بھی دولہا پور گاؤں میں ہوئی اس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں کے اقلیتوں کو عبادت گاہ تعمیر کرنے کی اجازت فراہم کرے اور اُن شر پسندوں کہ خلاف سخت قانونی کارروائی کر نے کی ہدایت دیں جنھوں نے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔


Share: